
From the Pen of ‘Allamah Binnoriy (rahimahullah):
Muhaddithul ‘Asr, ‘Allamah Muhammad Yusuf Binnoriy (rahimahullah) once wrote:
It is mentioned in the Hadith: “If a fly falls into a food container, immerse it and remove it, because one of its wings contains a disease and the other contains its medicine”.
«إذا وقع الذباب في إناء أحدكم فليغمسه كله، ثم ليطرحه، فإن في أحد جناحيه شفاء، وفي الآخر داء»
(Sahih Bukhariy, Hadith: 5782)
The Difference Between Ignorance & Reason
Some uninformed critics ridicule this, claiming it is entirely irrational. The truth is that this Hadith challenges ignorance, not reason. They mistakenly equate their lack of knowledge with true reason, rejecting a reality simply because their own limited understanding cannot grasp it.
Why doesn’t it occur to you that Allah Almighty, under His natural system, has created an insect in such a manner that its job is to sweep? He has given it such sharp eyesight that your telescopes are hatched in front of it, and He has created such heat in its stomach that it burns all the dirt it eats and turns it into an antidote. Look at how poisonous the bee is, but it sucks the juice of fruits and, instead of poison, it spits out honey.
The Truth of Wahy and the Vanity of Modern Doubt
So in the Hadith, it is said that in one of the wings of the fly is a treasure of its undigested food, which is a source of disease, and in the other wing is the digested antidote. Therefore, the instruction is to fully immerse the fly. This ensures that the wing containing the medicine is also introduced, thereby establishing a balance. Now tell me, what is against reason in this? We were ignorant of these facts, but revelation (Wahy) has informed us.
Due to this shortsightedness, the Chinese even launched a fly-killing campaign to the point of almost completely eliminating the existence of flies from China (1958–1962), However, I have heard that now, upon witnessing the increasing rate of diseases, they are bringing flies back to China. The system of divine power simply dwarfs our intellect. Truly, human intelligence is left stunned in the face of the system of divine power.
(Basa-ir wa ‘Ibar, Vol.1, Pg 397-398)
17/12/2025
__________
التخريج من المصادر:
بصائر وعبر (١/ ٣٩٧-٣٩٨): نظام قدرت کے سامنے انسانی عقل کی حیرانی
میں یہاں ایک لطیفہ آپ کو سنا تا ہوں بعض لوگ آج کل کہا کرتے ہیں کہ مکھی تو گندی چیز ہے، بھنبھناتی ہے، گندگی پر بیٹھتی ہے، خدا نے اس کو کیوں پیدا کر دیا، میں کہا کرتا ہوں کہ حدیث میں آتا ہے کہ “مکھی اگر کھانے کے برتن میں گر جائے تو اسے غوطہ دے کر نکال دو کیونکہ اس کے ایک پر میں بیماری ہے اور دوسرے میں اس کی دوا ہے” بعض نادانوں نے اس حدیث کا خوب مضحکہ اڑایا ہےکہ یہ حدیث تو بالکل خلاف عقل ہے، میں کہتا ہوں کہ اگر آپ نے کبھی پر اپنی تحقیقات اتنی قطعیت کے ساتھ مکمل کرلی ہوتیں کہ ان پر نہ تو اضافہ ممکن ہوتا نہ کسی تحقیق میں رد و بدل کی گنجائش رہتی ، پر تو آپ کو حق تھا کہ اس حدیث پر اعتراض کرتے، لیکن جب آپ کو اپنے جہل کا خود اقرار ہے جیسا کہ سائنسدان کا مقولہ میں نے ابھی نقل کیا تو یہ حدیث خلاف جہل ہوئی، خلاف عقل تو نہ ہوئی، یہ دوسری بات ہے کہ آپ نے جہل کا نام عقل رکھ لیا ہے، یعنی جس چیز کی حقیقت تک آپ کی رسائی نہیں ہو سکی آپ نے کم نظری بناء پر اسی کو خلاف عقل کہنا شروع کر دیا۔
آخر یہ بات آپ کی عقل میں کیوں نہیں آتی کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے قدرتی نظام کے تحت ایک حشرہ ایسا پیدا کیا ہے جس کا کام جاروب کشی ہے، اس اتنی تیز نظر بخشی ہےکہ تمہاری دور بینیں اس کے سامنے ہیچ ہیں اور اس کے معدے میں ایسی حرارت پیدا کی ہے جو اسکی کھائی ہوئی تمام گندگی کو جلا کر تر یاق بنادیتی ہے دیکھئے شہد کی کھ کس قدر زہریلی ہے، لیکن وہ پھلوں کا رس چوس کر بخائے زہر کے شہد اگلتی ہے، تو اس حدیث میں یہ بتلایا گیا ہے کہ مکھی کے ایک بازو میں اس کی غیر منہضم غذا کا خزانہ ہے، یہ تو بیماری ہے اور دوسرے بازو میں ہضم شده تریاق ہے ارور وہ برتن میں گر تے وقت اسی بازو کو آگے رکھتی ہے جس میں غیری منہضم غذا جمع کرتی ہے، تم اسے غوط دے کر اس کا وہ بازو بھی ڈال دو جس میں دوا ہے تاکہ توازن قائم ہو جائے، اب بتلائے اس میں کون سی بات خلاف عقل ہے؟ وہاں ہم ان حقائق سے جاہل تھے وحی نے ہم کو آگاہ کر دیا۔
اس کم بینی کی بنا پر چین والوں نے تو یہاں تک مکھی مار مہم چلائی کہ چین سے مکھی کا وجود ہی یکسر ختم کردیا، مگر سنا ہے کہ اب وہ امراض کی رفتار کو بڑھتا ہوادی کر پھر مکھی کو چین میں لا رہے ہیں، تو کہاں قدرت کا نظام اور کہاں ہماری عقل؟ واقعی نظام قدرت کے سامنے انسانی عقل حیران اور ششدر ہا۔
